امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں قتیبہ نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں جریر نے حدیث بیان کی از الاعمش از ابی وائل از حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ‘ انہوں نے بیان کیا کہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:تم میں سے کسی شخص کو فتنہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث یاد ہے؟ حضرت حذیفہ نے کہا: مجھے وہ حدیث اسی طرح یاد ہے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی‘ حضرت عمر نے فرمایا: تم اس کی ہمت رکھتے ہو‘ پس آپ نے کس طرح فرمایا تھا؟ میں نے کہا: آدمی اپنی بیوی‘ اپنی اولاد اور اپنے پڑوسی کی وجہ سے جن فتنوں میں مبتلا ہوتا ہے‘ نماز پڑھنے‘ صدقہ کرنے اور نیک کام کرنے سے ان کا کفارہ ہو جاتا ہے۔ سلیمان نے کہا: کبھی وہ یوں کہتے تھے کہ نماز‘ صدقہ‘ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی وجہ سے ان کا کفارہ ہو جاتا ہے‘ حضرت عمر نے فرمایا: میری یہ مراد نہیں ہے لیکن میری مراد وہ فتنہ ہے جو سمندر کی موج کی طرح امڈ کر آئے گا‘ حضرت حذیفہ نے بیان کیا: میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ کو اس فتنہ سے کوئی خطرہ نہیں ہے‘ آپ کے اور اس فتنہ کے درمیان ایک بند دروازہ ہے‘ حضرت عمر نے پوچھا: اس دروازہ کو توڑا جائے گا یا اس کو کھولا جائے گا؟ حضرت حذیفہ نے کہا: نہیں! بلکہ اس دروازہ کو توڑا جائے گا‘ حضرت عمر نے کہا: جب اس دروازہ کو توڑ دیا جائے گا تو پھر وہ کبھی بند نہیں ہو سکے گا‘ حضرت حذیفہ نے کہا: جی ہاں! پھر ہم حضرت حذیفہ سے اس دروازہ کے متعلق پوچھنے سے ڈرے‘ ہم نے مسروق سے کہا: تم ان سے پوچھو‘ مسروق نے حضرت حذیفہ سے پوچھا تو انہوں نے بتایا: دروازہ سے مراد خود حضرت عمر کی ذات تھی‘ ہم نے پوچھا: کیا حضرت عمر جانتے تھے آپ کی کیا مراد تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں! جس طرح وہ یہ جانتے تھے کہ آج دن کے بعد رات آئے گی‘ اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے ان کو ایسی حدیث بیان کی تھی جس میں بجھارت نہیں تھی۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيُّكُمْ يَحْفَظُ حَدِيثَ رَسُول اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الفتْنةِ قَالَ قُلْتُ أَنَا أَحْفَظُهُ كَمَا قَالَ قَالَ إِنَّكَ عَلَيْهِ لَجَرِيءٌ فَكَيْفَ قَالَ قُلتُ فتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَوَلَدِهِ وَجارِه تُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصَّدَقَةُ وَالمَعْروفُ قَالَ سُلَيْمَانُ قَدْ كَانَ يَقُولُ الصَّلَاةُ وَالصَّدَقَةُ وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ والنَّهْيُ عَنْ الْمُنْكَرِ قَالَ لَيْسَ هَذِهِ أُرِيدُ وَلَكِنِّي أُرِيدُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحرِ قَالَ قُلْتُ لَيْسَ عَلَيْكَ بِهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ بَأْسٌ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابٌ مُغْلقٌ قَالَ فَيُكْسَرُ الْبَابُ أَوْ يُفْتَحُ قالَ قُلْتُ لَا بَلْ يُكْسَرُ قَالَ فَإِنَّه إِذَا كُسِرَ لَمْ يُغْلَقْ أَبَدًا قَالَ قُلْتُ أَجَلْ فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَهُ مَنْ الْبَابُ فَقلْنَا لِمَسْرُوقٍ سَلْهُ قَالَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْنَا فَعَلِمَ عُمَر مَنْ تَعْنِي قَالَ نَعَمْ كَمَا أَنَّ دُونَ غَدٍ لَيْلَةً وَذَلِكَ أَنِّي حَدَّثْتُهُ حديثًا لَيْس بِالْأَغَالِيطِ
Reference: Sahih Al Bukhari 1435