Sahih Al Bukhari 1398

امام بخاری روایت کرتے ہیں: 'ہمیں حجاج نے حدیث بیان کی' انہوں نے کہا: 'ہمیں حماد بن زید نے حدیث بیان کی' انہوں نے کہا: 'ہمیں ابو جمرہ نے حدیث بیان کی' انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا' انہوں نے بیان کیا کہ

عبد القیس کا وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ ربیعہ کا قبیلہ ہے' ہمارے اور آپ کے درمیان کفارِ مضر حائل ہیں اور ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینوں میں آ سکتے ہیں سو آپ ہمیں ایسی چیز کا حکم دیں جس کو ہم آپ سے حاصل کریں اور اس کی طرف ان کو دعوت دیں جو ہمارے پیچھے ہیں' آپ نے فرمایا: میں تم کو چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں' اللہ پر ایمان لانے کا اور وہ یہ گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے اور آپ نے اپنی انگلی سے ایک کا اشارہ کیا' اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا اور یہ کہ تم مالِ غنیمت سے پانچواں حصہ ادا کرو' اور میں تم کو کھوکھلے کدو' سبز گھڑوں' کھوکھلی لکڑی اور روغنی برتنوں (میں پینے) سے منع کرتا ہوں۔

اور سلیمان اور ابو النعمان نے حماد سے روایت میں کہا ہے: ایمان باللہ یہ گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ

قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ القَيْسِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا الحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ قَدْ حَالَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَر، وَلَسْنَا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الحَرَامِ، فَمُرْنَا بِشَيْءٍ نَأْخُذُهُ عَنْكَ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا، قَالَ آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ الإِيمَانِ بِاللَّهِ، وَشَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَعَقَدَ بِيَدِهِ هَكَذَا وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ الدُّبّاءِ، وَالحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالمُزَفَّتِ

Grade:

Reference: Sahih Al Bukhari 1398