Sahih Al Bukhari 1396

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں حفص بن عمر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی از ابن عثمان بن عبداللہ بن موہب از موسیٰ بن طلحہ از ابی ایوب رضی اللہ عنہ کہ

ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: مجھے ایسے عمل کی خبر دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کر دے، (لوگوں نے کہا:) اسے کیا ہوا، یہ بات پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سوال کی ضرورت ہے، تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور رشتہ داروں سے ملاپ رکھو۔

اور بہز نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن عثمان نے حدیث بیان کی، اور ان کے والد عثمان بن عبداللہ ان دونوں نے موسیٰ بن طلحہ از ابو ایوب اس حدیث کو سنا۔ امام ابو عبداللہ (بخاری) نے کہا: مجھے خدشہ ہے کہ محمد کا نام غیر محفوظ ہے، اس کا نام عمرو ہے۔

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الجَنَّةَ، قَالَ: مَا لَهُ مَا لَهُ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَبٌ مَا لَهُ؟ تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ

Grade:

Reference: Sahih Al Bukhari 1396