امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں قتیبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں جریر بن عبدالحمید نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں حصین بن عبدالرحمن نے حدیث بیان کی از عمرو بن میمون الاودی، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے کہا: اے عبداللہ بن عمر! تم ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ، پس ان سے کہو کہ عمر بن الخطاب آپ کو سلام کہتے ہیں، پھر ان سے سوال کرنا کہ میں اپنے دو صاحبوں کے ساتھ دفن کر دیا جاؤں؟ حضرت عائشہ نے کہا: میں اس جگہ کا اپنے لیے ارادہ رکھتی تھی، پس میں آج ان کو ضرور اپنے اوپر ترجیح دوں گی، پھر جب حضرت عبداللہ بن عمر آئے تو حضرت عمر نے پوچھا: تمہارے پاس کیا جواب ہے؟ انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! حضرت ام المؤمنین نے آپ کے لیے اجازت دے دی ہے، حضرت عمر نے کہا: اس جگہ سے زیادہ میرے نزدیک اور کوئی جگہ اہم نہیں تھی، پس جب میری روح قبض کر لی جائے تو مجھے وہاں اٹھا کر لے جانا، پھر سلام عرض کرنا، پھر کہنا: عمر بن الخطاب اجازت طلب کرتا ہے، پس اگر وہ میرے لیے اجازت دے دیں تو مجھے وہاں دفن کر دینا ورنہ مجھے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دینا، بےشک میرے علم میں اس خلافت کا ان لوگوں سے زیادہ حق دار کوئی نہیں ہے جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے وقت راضی تھے، پس وہ میرے بعد جس کو خلیفہ بنا دیں وہی خلیفہ ہو گا، تم اس کے احکام سننا اور اس کی اطاعت کرنا، پھر انہوں نے حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عبدالرحمن بن عوف، اور سعد بن عوف اور حضرت سعد بن ابی وقاص کے نام لیے اور ان کے پاس انصار کا ایک جوان آیا اور اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ کو مبارک ہو! آپ کو اللہ کی بشارت ہے، آپ پہلے اسلام لانے والوں میں ہیں جیسا کہ آپ کو معلوم ہے پھر آپ کو خلیفہ بنایا گیا تو آپ نے عدل کیا، پھر اس کے بعد آپ کو شہادت ملی: حضرت عمر نے کہا: کاش! اے میرے بھتیجے! یہ سب برابر سراسر ہو جائے نہ مجھے عذاب ہو اور نہ مجھے ثواب ملے میرے بعد جو خلیفہ ہو میں اس کو مہاجرین اولین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں اور وہ ان کے حق کو پہچانے اور ان کی حرمت کی حفاظت کرے اور میں اسے انصار کے ساتھ نیک سلوک کی وصیت کرتا ہوں، جنہوں نے گھروں میں ٹھکانا دیا اور مہاجروں کی ہجرت سے پہلے ایمان لائے ان کی نیکیوں کو قبول کیا جائے اور ان کی خطاؤں کو معاف کر دیا جائے اور میں اسے یہ وصیت کرتا ہوں کہ اللہ کے ذمہ کو اور اس کے رسول کے ذمہ کو پورا کرے اور ان کے عہد کو مکمل کیا جائے اور ان کے پیچھے جنگ کی جائے اور ان کو ان کی طاقت سے زیادہ مکلف نہ کیا جائے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ حَدَّثَنَا حُصَيْن بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ قَالَ رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ اذْهَبْ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقُلْ يَقْرَأُ عمَر بْنُ الْخَطَّابِ عَلَيْكِ السَّلَامَ ثُمَّ سلْها أَنْ أُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَيَّ قَالَتْ كُنْت أُرِيدُهُ لِنَفْسِي فَلَأُوثِرَنَّهُ الْيَوْمَ علَى نَفسِي فَلَمَّا أَقْبَلَ قَالَ لَهُ مَا لَدَيْكَ قَالَ أَذِنَتْ لَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ مَا كَانَ شَيْءٌ أَهَمَّ إِلَيَّ مِنْ ذَلِكَ الْمضْجَعِ فَإِذَا قُبِضْتُ فَاحْمِلُونِي ثُمّ سَلّمُوا ثُمَّ قُلْ يَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الخَطَّاب فَإِنْ أَذِنَتْ لِي فَادْفِنُونِي وَإِلّا فَرُدُّونِي إِلَى مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ إِنِّي لَا أَعْلَمُ أَحَدًا أَحَقَّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْ هَؤلَاءِ النَّفَرِ الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسولُ اللَّهِ صَلّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهو عَنْهُمْ راضٍ فَمَنْ اسْتَخْلَفُوا بَعْدِي فَهُوَ الْخَلِيفَةُ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا فَسَمَّى عُثْمَانَ وَعَلِيًّا وَطَلْحَةَ وَالزُّبَيْر وَعَبْدَ الرّحْمَن بْنَ عَوْفٍ وَسَعْدَ بْنَ أبي وَقَّاصٍ وَوَلَجَ عَلَيْهِ شَابٌّ مِنْ الْأَنْصارِ فَقَالَ أَبْشِرْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ بِبُشْرَى اللَّهِ كَانَ لَكَ مِنْ الْقَدَمِ فِي الْإِسْلَامِ مَا قَدْ عَلِمْتَ ثُمَّ اسْتُخْلِفْتَ فعَدَلْتَ ثُمّ الشَّهَادةُ بَعْدَ هَذَا كُلِّه فقَالَ لَيْتَنِي يَا ابْنَ أَخِي وَذَلِكَ كَفَافًا لَا عَلَيَّ وَلَا لِي أُوصِي الْخَلِيفَةَ مِنْ بَعْدِي بِالْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ خَيْرًا أَنْ يَعْرِفَ لَهُمْ حَقَّهم وَأَنْ يَحْفَظَ لَهم حُرْمَتَهُمْ وَأُوصيهِ بِالْأَنْصَارِ خَيْرًا الّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ أَنْ يُقْبَلَ مِنْ مُحْسِنِهِم وَيُعْفى عَنْ مُسِيئِهِم وَأُوصِيهِ بِذِمَّةِ اللَّهِ وَذِمَّةِ رَسُولِه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ أنْ يُوفَى لَهمْ بِعَهْدِهِمْ وَأَنْ يقَاتَلَ مِنْ وَرَائِهِم وَأَنْ لَا يُكَلَّ فُوا فَوْقَ طَاقَتِهِمْ
Reference: Sahih Al Bukhari 1392