امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں موسیٰ بن اسماعیل نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابو عوانہ نے حدیث بیان کی از ہلال از عروہ از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا وہ بیان کرتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری میں فرمایا جس سے آپ صحت یاب نہیں ہوئے: اللہ یہود اور نصاریٰ پر لعنت کرے جنہوں نے انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا، اگر یہ خطرہ نہ ہوتا تو میں آپ کی قبر کو ظاہر کر دیتی لیکن یہ خطرہ ہے کہ آپ کی قبر کو سجدہ گاہ بنا لیا جائے گا،
اور ہلال نے کہا کہ عروہ بن زبیر نے میری کنیت رکھی حالانکہ میری اولاد نہیں ہوئی۔ ہمیں محمد بن مقاتل نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوبکر بن عیاش نے خبر دی از سفیان التمار انہوں نے یہ حدیث بیان کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو دیکھا، وہ کوہان کی طرح تھی۔ ہمیں فروہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں علی نے حدیث بیان کی از ہشام بن عروہ از والد خود جب الولید بن عبد الملک کے زمانہ میں ان پر دیوار گر گئی اور وہ اس کو بنانے لگے تو ان کے سامنے ایک قدم ظاہر ہوا، پس وہ خوف زدہ ہو گئے اور انہوں نے گمان کیا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم ہے، پس انہیں اس کو جاننے والا کوئی نہیں ملا حتیٰ کہ ان سے عروہ نے کہا: نہیں! اللہ کی قسم! یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم نہیں ہے، یہ صرف حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قدم ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِلاَلٍ هُوَ الوَزَّانُ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ: لَعَنَ اللَّهُ اليَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ، لَوْلاَ ذَلِكَ أُبْرِزَ قَبْرُهُ غَيْرَ أَنه خَشِيَ - أَوْ خُشِيَ أَنَّ يُتَّخَذَ مَسْجِدا وَعَنْ هِلاَلٍ، قَالَ: كَنَّانِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَلَمْ يُولَدْ لِيحَدَّثَنَا مُحَمّد بْنُ مقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ سُفْيَانَ التَّمّارِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ: أَنَّهُ رَأَى قبر النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَنَمًا حَدثَنَا فَرْوَةُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بن مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، لَمَّا سَقَطَ عَلَيْهِمُ الحَائِطُ فِي زَمَانِ الوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ المَلِكِ، أَخَذُوا فِي بِنَائِهِ فَبَدَتْ لَهُمْ قَدَمٌ، فَفَزِعُوا وَظَنُّوا أَنَّهَا قَدَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ، فَمَا وَجَدُوا أَحَدًا يَعْلَمُ ذَلِكَ حَتَّى قَالَ لَهُمْ عُرْوَةُ: لاَ وَاللَّهِ مَا هِيَ قَدَمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، مَا هِيَ إِلَّا قَدَمُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Reference: Sahih Al Bukhari 1390