امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں موسیٰ بن اسماعیل نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں جریر بن حازم نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابو رجاء نے حدیث بیان کی از حضرت سمره بن جندب رضی اللہ عنہ، انہوں نے بیان کیا:
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھاتے تو ہماری طرف متوجہ ہوتے، پس پوچھتے: تم میں سے آج رات کس نے خواب دیکھا ہے؟ پس اگر کسی نے خواب دیکھا ہوتا تو وہ بیان کرتا، پس جو اللہ تعالیٰ چاہتا وہ آپ فرماتے، سو ایک دن آپ نے ہم سے سوال کیا، پس فرمایا: کیا تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے؟ ہم نے کہا: نہیں! آپ نے فرمایا: لیکن میں نے آج رات خواب دیکھا کہ دو آدمی میرے پاس آئے، پس وہ دونوں میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے ارض مقدسہ میں لے گئے، پس وہاں ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا اور دوسرا آدمی لوہے کا آنکڑا (ہک) لے کر کھڑا ہوا تھا۔ راوی نے کہا: ہمارے بعض اصحاب نے موسیٰ سے روایت کیا: وہ کھڑا ہوا شخص اس بیٹھے ہوئے آدمی کے جبڑے میں اس آنکڑے کو داخل کرتا حتیٰ کہ وہ جبڑا اس کی گدی تک چیر دیتا، پھر اس کے دوسرے جبڑے میں اسی طرح آنکڑے کو داخل کرتا اور اس کا پہلا جڑ ٹھیک ہو چکا ہوتا، پھر وہ اس ٹکڑے میں اسی طرح آ نکڑا داخل کرتا‘ میں نے ان دونوں سے پوچھا: یہ کیا ہو رہا ہے؟ انہوں نے کہا: آگے چلیے! پس ہم چل پڑے حتیٰ کہ ہم ایک شخص کے پاس پہنچے جو پیٹھ کے بل لیٹا ہوا تھا اور دوسرا شخص اس کے سر کے پاس پتھر لیے کھڑا ہے اور اس کا سر پھوڑ رہا ہے، پس جب وہ اس کے سر پر ضرب لگاتا تو وہ پتھر لڑھکتا ہوا چلا جاتا‘ پھر وہ اس پتھر کو لینے کے لیے چلا جاتا‘ جب وہ واپس آتا تو اس کا سر پہلے کی طرح ٹھیک ہو چکا ہوتا‘ وہ پھر لوٹ کر اس کا سر پھوڑتا‘ میں نے ان دونوں سے پوچھا: یہ کیا ہو رہا ہے؟ انہوں نے کہا: آگے چلیے! پس ہم آگے گئے تو تنور کی طرح ایک سوراخ تھا‘ وہ اوپر سے تنگ تھا اور نیچے سے فراخ تھا‘ اس کے نیچے آگ جل رہی تھی‘ پھر جب وہ آگ اوپر اٹھتی تو اس میں جو لوگ تھے وہ اس تنور سے نکلنے کے قریب ہوتے اور جب وہ آگ بجھ جاتی تو پھر وہ لوگ نیچے چلے جاتے‘ اس میں برہنہ مرد اور عورتیں تھیں‘ میں نے پوچھا: یہ کیا ہو رہا ہے؟ انہوں نے کہا: آگے چلیے! پس ہم آگے گئے‘ حتیٰ کہ ہم خون کے دریا پر آئے‘ دریا کے وسط میں ایک شخص کھڑا ہوا تھا‘ یزید نے اور وہب بن جریر نے کہا از جریر بن حازم: دریا کے کنارے ایک اور شخص تھا جس کے سامنے پتھر تھے‘ پھر وہ شخص آگے بڑھا جو دریا میں تھا جب وہ (دریا سے) نکلنے کا ارادہ کرتا تو دوسرا شخص اس کے منہ پر پتھر کھینچ کر مارتا اور اس کو اسی جگہ لوٹا دیتا‘ پس جب بھی وہ نکلنے کے لیے آتا تو وہ دوسرا شخص اس کے منہ پر پتھر مارتا‘ پھر وہ اسی جگہ لوٹ جاتا‘ میں نے ان دونوں سے پوچھا: یہ کیا ہو رہا ہے؟ انہوں نے کہا: آگے چلیے! پس ہم آگے گئے حتیٰ کہ ہم ایک سرسبز باغ کے پاس پہنچے‘ اس میں بہت بڑا درخت تھا‘ اس کی جڑ میں ایک بوڑھا شخص بیٹھا تھا اور بچے بیٹھے تھے اور ایک شخص درخت کے قریب تھا‘ وہ اپنے سامنے آگ جلا رہا تھا‘ ان دونوں نے مجھے اس درخت پر چڑھایا اور مجھے ایک گھر میں داخل کر دیا‘ اس سے زیادہ حسین گھر میں نے اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا‘ اس میں بوڑھے مرد تھے اور جوان مرد تھے اور عورتیں تھیں اور بچے تھے‘ پھر ان دونوں نے مجھے اس گھر سے نکالا پھر مجھے اس درخت پر چڑھایا پھر مجھے ایک اور گھر میں داخل کیا جو اس سے زیادہ حسین اور افضل تھا اس میں بوڑھے اور جوان تھے میں نے کہا: تم دونوں نے مجھے ساری رات گھمایا ہے اب مجھے بتاؤ کہ میں نے کیا کچھ دیکھا ہے ان دونوں نے کہا: ہاں! رہا وہ شخص جس کو آپ نے دیکھا کہ اس کے جبڑے کو توڑا جا رہا تھا یہ بہت جھوٹا تھا یہ جھوٹی خبریں دیتا تھا جو اس سے نقل کی جاتی تھیں حتیٰ کہ ساری دنیا میں پھیل جاتی تھیں سو اس کے ساتھ قیامت تک وہی کیا جاتا رہے گا جو آپ نے دیکھا ہے اور جس شخص کو آپ نے دیکھا کہ اس کا سر پھوڑا جا رہا تھا یہ وہ شخص ہے جس کو اللہ نے قرآن کا علم دیا تھا یہ رات کو سو جاتا تھا اور دن میں اس پر عمل نہیں کرتا تھا اس کے ساتھ قیامت تک اسی طرح کیا جاتا رہے گا اور جن لوگوں کو آپ نے تنور میں دیکھا وہ زنا کرنے والے تھے اور جن لوگوں کو آپ نے خون کے دریا میں دیکھا وہ سود کھانے والے تھے اور جس بوڑھے شخص کو آپ نے درخت کی جڑ میں دیکھا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے اور جو بچے ان کے گرد تھے وہ لوگوں کی (نابالغ) اولاد ہیں اور جو شخص آگ جلا رہا تھا وہ دوزخ کا داروغہ مالک ہے اور پہلا گھر جو آپ نے دیکھا جس میں آپ داخل ہوئے تھے وہ عام مسلمانوں کا گھر ہے اور رہا یہ گھر تو یہ شہداء کا گھر ہے اور میں جبریل ہوں اور یہ میکائیل ہیں آپ اپنا سر اٹھائیں پس میں نے اپنا سر اٹھایا تو میرے اوپر بادل کی طرح تھا ان دونوں نے کہا: یہ آپ کا ٹھکانا ہے میں نے کہا: مجھے چھوڑو! میں اپنے گھر میں داخل ہوں ان دونوں نے کہا: ابھی آپ کی عمر باقی ہے جس کو آپ نے مکمل نہیں کیا پس اگر آپ نے اپنی عمر کی تکمیل کر لی تو آپ اپنے ٹھکانے میں جائیں گے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا أَبو رَجَاءٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إذا صلَّى صَلَاةً أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقالَ مَنْ رَأَى مِنْكُمْ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا قَالَ فَإِنْ رَأَى أَحَدٌ قَصَّهَا فَيَقُولُ مَا شَاءَ اللَّهُ فَسَأَلَنَا يَوْمًا فَقَالَ هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رُؤْيَا قُلْنَا لَا قَالَ لَكِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي فَأَخَذا بِيَدِي فَأَخْرَجَانِي إِلَى الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ وَرَجُلٌ قَائِمٌ بِيَدهِ كَلُّوبٌ مِنْ حَدِيدٍ قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَنْ مُوسَى إِنَّهُ يُدْخِلُ ذَلِكَ الْكَلُّوبَ فِي شِدقِهِ حَتَّى يَبْلُغَ قَفَاهُ ثُمَّ يَفْعل بِشِدقِهِ الْآخَرِ مِثْلَ ذَلِكَ وَيَلْتَئِمُ شدْقُهُ هذَا فَيَعُودُ فَيَصْنَعُ مِثْلَهُ قُلْت مَا هَذَا قَالَا انْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ عَلَى قَفَاهُ وَرَجُلٌ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِهِ بِفِهْرٍ أَوْ صَخْرةٍ فَيَشْدخُ بِهِ رَأْسَهُ فَإِذَا ضَرَبَهُ تَدهدَهَ الْحَجَرُ فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ لِيَأْخُذَه فَلَا يَرْجِع إِلَى هَذَا حَتَّى يَلْتَئِمَ رَأْسهُ وَعَادَ رَأْسُهُ كَمَا هُوَ فَعَادَ إِلَيْهِ فَضَرَبَهُ قُلْت مَنْ هَذَا قَالَا انْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا إِلَى ثَقْبٍ مِثْلِ التَّنُّورِ أَعْلَاه ضَيِّقٌ وَأَسفَلُهُ وَاسِعٌ يَتَوَقَّدُ تَحته نَارًا فَإِذَا اقْتَرَبَ ارْتَفَعُوا حَتَّى كَادَ أَنْ يَخْرُجُوا فَإِذَا خَمَدَتْ رَجَعُوا فِيهَا وَفِيهَا رِجَالٌ وَنِسَاءٌ عُرَاةٌ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَا انْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى نَهَرٍ مِنْ دَم فِيهِ رَجُلٌ قَائِمٌ عَلَى وَسَطِ النَّهَرِ قَالَ يَزِيدُ وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ وَعَلَى شَطِّ النَّهَرِ رَجُلٌ بَيْنَ يَديْهِ حِجَارَةٌ فَأَقبل الرَّجُلُ الَّذِي فِي النَّهَرِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ رَمَى الرَّجُلُ بِحَجَرٍ فِي فِيهِ فَرَدَّهُ حَيْثُ كَان فَجَعَلَ كُلَّمَا جَاءَ لِيخْرُجَ رَمَى فِي فِيهِ بِحَجَرٍ فَيَرْجِعُ كَمَا كَانَ فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالَا انْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ فِيهَا شَجَرَةٌ عَظِيمَةٌ وَفِي أَصْلِهَا شَيْخٌ وَصِبْيَانٌ وَإِذَا رَجُلٌ قَرِيبٌ مِنْ الشَّجَرَة بَيْنَ يَدَيْهِ نَارٌ يُوقِدُهَا فَصَعِدَا بِي فِي الشَّجَرَةِ وَأَدْخَلَانِي دَارًا لَمْ أَرَ قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهَا فِيهَا رِجَالٌ شُيُوخٌ وَشَبَابٌ وَنِسَاءٌ وَصِبْيَانٌ ثُمَّ أَخْرَجَانِي مِنْها فَصَعِدَا بِي الشَّجَرَةَ فَأَدْخَلَانِي دَارًا هِيَ أَحْسَنُ وَأَفْضَلُ فِيهَا شُيُوخٌ وَشَبَابٌ قُلْتُ طَوَّفْتُمَانِي اللَّيْلَةَ فَأَخْبِرَاني عَما رَأَيْتُ قَالَا نَعَمْ أَمَّا الَّذِي رَأَيتَهُ يُشَقُّ شِدْقُهُ فَكَذَّابٌ يُحَدِّثُ بالكذْبَة فتُحْمَلُ عَنْهُ حَتَّى تَبْلُغَ الْآفَاق فَيُصْنَعُ بِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَالَّذِي رَأَيْتَهُ يُشْدَخُ رَأْسُهُ فَرَجُلٌ عَلّمه اللَّهُ الْقُرْآنَ فَنَامَ عَنْهُ بِاللَّيْلِ وَلَمْ يَعْملْ فِيهِ بِالنَّهَارِ يُفْعَلُ بِهِ إِلى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَالَّذِي رَأَيْتَهُ فِي الثَّقْبِ فَهُمْ الزُّنَاةُ وَالَّذِي رَأَيْتَهُ في النَّهَرِ آكِلُوا الرِّبَا وَالشَّيْخُ فِي أَصْلِ الشَّجَرَةِ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام وَالصِّبْيَانُ حَوْلَهُ فَأَوْلَادُ النَّاسِ وَالَّذِي يُوقِدُ النَّارَ مَالِكٌ خَازِنُ النَّارِ وَالدَّارُ الْأُولَى الَّتِي دَخَلْتَ دَارُ عَامَّةِ الْمُؤْمِنِينَ وَأمَّا هَذِهِ الدَّارُ فَدَارُ الشُّهَدَاءِ وَأَنَا جِبْرِيلُ وَهَذَا مِيكَائِيلُ فَارْفَعْ رَأْسَكَ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا فَوْقِي مِثْلُ السَّحَابِ قَالَا ذَاكَ مَنْزِلُكَ قُلْتُ دَعَانِي أَدْخُلْ مَنْزِلِي قَالَا إِنَّهُ بَقِيَ لَكَ عُمُرٌ لَمْ تَستَكْمِلْهُ فَلَوْ اسْتَكْمَلْت أَتَيْتَ مَنزلَكَ
Reference: Sahih Al Bukhari 1386