Sahih Al Bukhari 1368

امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں عفان بن مسلم نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں داؤد بن ابی الفرات نے حدیث بیان کی، از عبداللہ بن بریدہ از ابی الاسود انہوں نے بیان کیا کہ

میں مدینہ میں آیا اور وہاں ایک بیماری پھیلی ہوئی تھی، پس میں حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا، پھر وہاں سے ایک جنازہ گزرا، پس اس کی تحسین کی گئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واجب ہو گئی، پھر دوسرا جنازہ گزرا تو اس کی بھی تحسین کی گئی، پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واجب ہو گئی، پھر تیسرا جنازہ گزرا تو اس کی مذمت کی گئی، پس حضرت عمر نے کہا: واجب ہو گئی، ابو الاسود نے کہا: میں نے پوچھا: اے امیر المؤمنین! کیا چیز واجب ہو گئی؟ حضرت عمر نے کہا: میں نے اسی طرح کہا ہے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جس مسلمان کے حق میں بھی چار مسلمان نیکی کی گواہی دیں اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کر دے گا، ہم نے کہا: اور تین؟ آپ نے فرمایا: اور تین، پس ہم نے کہا: اور دو؟ آپ نے فرمایا: اور دو، پھر ہم نے ایک کے متعلق آپ سے سوال نہیں کیا۔

حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ هُوَ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَن أَبِي الْأَسْوَدِ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَقَدْ وَقَعَ بِهَا مَرَضٌ فَجَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ بْن الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَرَّتْ بهمْ جَنَازَةٌ فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرًا فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَجَبَتْ ثُم مُرّ بِأُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرًا فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَجَبَتْ ثُمّ مرَّ بِالثَّالِثَةِ فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحبهَا شَرًّا فَقَالَ وَجَبَتْ فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ فَقُلْتُ وَمَا وَجَبَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ قُلْتُ كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا مُسْلِمٍ شهد لَهُ أَربَعةٌ بِخَيْرٍ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجنَّةَ فَقلنَا وَثَلَاثَةٌ قَالَ وَثَلَاثَةٌ فَقلْنَا وَاثْنَانِ قَالَ وَاثْنَانِ ثُمَّ لَمْ نَسْأَلْهُ عَنْ الْوَاحِدِ

Grade:

Reference: Sahih Al Bukhari 1368