Sub-Chapter (Baab)

Sahih Al Bukhari 1361

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں یحییٰ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابو معاویہ نے حدیث بیان کی از الاعمش از مجاہد از طاؤس از حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما از نبی صلی اللہ علیہ وسلم،

آپ ایسی دو قبروں کے پاس سے گزرے جن کو عذاب دیا جا رہا تھا، آپ نے فرمایا: بے شک ان کو عذاب دیا جا رہا ہے اور ان کو کسی ایسی چیز میں عذاب نہیں دیا جا رہا جس سے بچنا دشوار ہو۔ رہا ان دونوں میں سے ایک تو وہ پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور رہا دوسرا تو وہ چغلی کرتا تھا، پھر آپ نے کھجور کے درخت کی ایک تر شاخ لی، پس اس کے دو ٹکڑے کیے، پھر ہر ایک کی قبر میں ایک ٹکڑا گاڑ دیا، پس مسلمانوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ آپ نے فرمایا: تحقیق یہ ہے، کہ جب تک یہ شاخیں خشک نہیں ہوں گی، ان کے عذاب میں تخفیف ہوتی رہے گی۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلمَ أَنَّهُ مَرَّ بِقَبْرَيْنِ يُعَذَّبان فقالَ إنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَان في كَبِيرٍ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنْ الْبَوْلِ وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فشَقّها بِنِصْفَيْنِ ثُمَّ غَرَزَ فِي كُلِّ قبرٍ وَاحِدَةً فقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا فَقَالَ لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عنهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا

Grade:

Reference: Sahih Al Bukhari 1361