امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابو الیمان نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعیب نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ
ابن شہاب ہر فوت شدہ بچے کی نماز جنازہ پڑھتے تھے خواہ وہ کسی طوائف کا بچہ ہو کیونکہ وہ بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوا ہے، اس کے ماں باپ اسلام کے مدعی ہیں یا خصوصاً اس کا باپ، خواہ اس کی ماں اسلام کے علاوہ کسی اور دین پر ہو، جب بچہ پیدا ہونے کے بعد آواز سے روئے گا تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور جو پیدا ہونے کے بعد آواز سے نہیں روئے گا اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ ناتمام بچہ ہو،
کیونکہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی بنا دیتے ہیں یا نصرانی بنا دیتے ہیں یا مجوسی بنا دیتے ہیں جیسے چوپائے ہیں سب مکمل جسم کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں کیا تم ان میں سے کسی کو کن کٹایا نکٹا دیکھتے ہو، پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: اللہ نے جس فطرت (بناوٹ) پر لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ (الروم: ۳۰)
حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: يُصَلَّى عَلَى كُلِّ مَوْلُودٍ مُتَوَفًّى، وَإِنْ كَانَ لِغَيةٍ، مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ وُلِدَ عَلَى فِطْرَةِ الإِسْلاَمِ، يَدَّعِي أَبَوَاهُ الإِسْلاَمَ، أَوْ أَبُوهُ خَاصَّةً، وَإِنْ كَانَتْ أُمُّهُ عَلَى غَيْر الإِسْلاَمِ، إِذَا اسْتَهَلَّ صَارِخًا صُلِّيَ عَلَيْهِ، وَلاَ يُصَلَّى عَلَى مَنْ لاَ يَسْتَهِلُّ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ سِقْطٌ فَإِنَّ أَبَا هُرَيرةَ رضيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يُحَدِّثُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِن مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ، أَوْ يمَجّسانهِ، كَمَا تُنْتَجُ البَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ، ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنهُ: فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا
Reference: Sahih Al Bukhari 1358