امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبدان نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبد اللہ نے خبر دی از یونس از الزہری، انہوں نے کہا: مجھے سالم بن عبد اللہ نے خبر دی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کو خبر دی
کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور چند مسلمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابن صیاد کی طرف گئے حتیٰ کہ اس کو اس حال میں دیکھا کہ وہ بچوں کے ساتھ بنی مغالہ کے مکانوں کے پاس کھیل رہا تھا، اور اس وقت ابن صیاد بلوغت کے قریب تھا، اس کو پتا نہیں چلا حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا ہاتھ مارا، پھر آپ نے ابن صیاد سے فرمایا: کیا تم شہادت دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ ابن صیاد نے آپ کی طرف دیکھا، پھر کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیین (ان پڑھ لوگوں) کے رسول ہیں، پھر ابن صیاد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چھوڑ دیا، اور فرمایا: میں اللہ پر ایمان لاتا ہوں اور اس کے تمام رسولوں پر، پھر آپ نے اس سے پوچھا: تم کیا دیکھتے ہو؟ تو ابن صیاد نے کہا: میرے پاس صادق اور کاذب (خبریں) آتی ہیں، تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر معاملہ مشتبہ ہو گیا ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: میں نے تمہارے لیے ایک بات چھپائی ہے (بتاؤ! وہ کیا ہے)، ابن صیاد نے کہا: وہ الدخ ہے، آپ نے فرمایا: دفع ہو جا! تو اپنی حد سے تجاوز نہیں کر سکتا، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن اڑا دوں! پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ وہی ہے (یعنی دجال) تو تم اس پر مسلط نہیں ہو، اور اگر یہ وہ نہیں ہے تو پھر اس کو قتل کرنے میں تمہارے لیے کوئی خیر نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ انْطَلَقَ مَعَ النَّبِيِّ صَلى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ، حَتَّى وَجَدُوهُ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ، وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ الحُلُمَ، فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَب النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بيَدِه، ثُمَّ قَالَ لِابْنِ صَيَّادٍ: تَشْهَدُ أَنِي رَسُولُ اللَّهِ؟، فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الأُمِّيِّينَ، فقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَهِ؟ فَرَفَضَهُ وَقَالَ: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِه فَقَالَ لَهُ: مَاذَا تَرَى؟ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُلِّطَ عليْكَ الأَمْرُ ثُمَّ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَك خَبِيئا فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: هُوَ الدُّخُّ، فَقَالَ: اخْسَأْ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ فَقَالَ عُمَرُ رضِي اللَّهُ عَنْهُ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ يَكُنْهُ فَلَنْ تُسَلط عَلَيهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْهُ فَلاَ خيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ
Reference: Sahih Al Bukhari 1354