امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں مسدد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں بشر بن المفضل نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں حسین المعلم نے حدیث بیان کی از عطاء از حضرت جابر رضی اللہ عنہ، وہ بیان کرتے ہیں کہ
جب غزوہ احد پیش آیا تو میرے والد نے مجھے رات کو بلایا اور کہا: میرا یہی گمان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے جو شہید ہوں گے، میں ان میں سب سے پہلے شہید ہو جاؤں گا اور میں جن کو چھوڑ کر جاؤں گا، ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مجھے سب سے زیادہ عزیز تم ہو، پس مجھ پر قرض ہے، سو تم میرا قرض ادا کر دینا اور تم اپنی بہنوں کے ساتھ نیک سلوک کرنا، پھر صبح ہوئی تو وہ سب سے پہلے شہید تھے اور ان کے ساتھ ایک اور شخص کو بھی قبر میں دفن کیا گیا، پھر میرا دل اس سے خوش نہیں ہوا کہ میں ان کو دوسرے شخص کے ساتھ رکھوں، پس میں نے چھ مہینے بعد ان کو اس قبر سے نکال لیا، پس وہ اسی طرح تھے جیسے اس وقت ان کو رکھا تھا، البتہ کان تھوڑا سا متغیر ہوا تھا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ المعلِّمُ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنهُ قَالَ لَمَّا حَضَرَ أُحُدٌ دَعَانِي أَبِي مِنْ اللَّيْلِ فَقَالَ مَا أُرَانِي إِلَّا مَقْتُولًا فِي أَوَّلِ مَنْ يُقْتَلُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنّي لا أَتْرُكُ بَعْدِي أَعَزَّ عَلَيَّ مِنْكَ غَيْر نفْس رَسولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فَإِنَّ عَلَيَّ دَيْنًا فَاقْضِ وَاسْتَوص بِأَخَواتِكَ خَيْرًا فَأَصْبَحْنَا فَكَانَ أَوّل قَتِيلٍ وَدُفِنَ مَعَهُ آخَرُ فِي قَبْرٍ ثُمَّ لَمْ تَطِب نَفْسِي أَنْ أَتْرُكَهُ مَعَ الْآخَرِ فَاسْتَخْرَجْتُهُ بَعْدَ سِتَّةِ أَشْهُرٍ فَإِذا هوَ كَيَوْم وَضَعْتُهُ هُنَيَّةً غَيْرَ أُذُنه
Reference: Sahih Al Bukhari 1351