امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد بن عبداللہ بن حوشب نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبدالوہاب نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں خالد نے حدیث بیان کی از عکرمہ از حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما از نبی صلی اللہ علیہ وسلم، آپ نے فرمایا:
اللہ عزوجل نے مکہ کو حرم بنا دیا، پس مجھ سے پہلے کسی کے لیے اس میں (قتال) جائز نہ تھا نہ میرے بعد جائز ہے، میرے لیے دن کی ایک ساعت میں اس کو حلال کیا گیا، اس کی گھاس کاٹی جائے نہ اس کا درخت کاٹا جائے اور نہ وہاں کے جانور (شکار) کو بھگایا جائے اور نہ وہاں کی پڑی ہوئی چیز اٹھائی جائے ماسوا اعلان کرنے والے کے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: سوائے اذخر (گھاس) کے کیونکہ وہ ہمارے سناروں کے کام آتی ہے اور ہماری قبروں میں رکھی جاتی ہے تو آپ نے فرمایا: سوائے اذخر کے،
اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہماری قبروں اور ہمارے گھروں کے لیے اور ابان بن صالح نے کہا از الحسن بن مسلم از صفیہ بنت شیبہ روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل سنی ہے اور مجاہد نے کہا از طاؤس از حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما: ان کے لوہاروں کے لیے اور ان کے گھروں کے لیے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهّاب حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عبّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صلّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَرَّمَ اللَهُ مكَّةَ فَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي ولا لِأَحدٍ بَعْدِي أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطتُهَا إلّا لِمُعَرِّفٍ فَقَالَ الْعَبَّاسُ رَضي اللَّهُ عَنْهُ إِلَّا الْإِذْخِرَ لِصَاغَتِنَا وَقُبُورِنا فَقَالَ إِلَّا الْإِذْخِرَ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقُبُورِنَا وبُيُوتِنا وَقَالَ أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبة سَمِعْتُ النَبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلَمَ مِثْلَه وقَالَ مُجَاهِدٌ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لِقَيْنِهمْ وَبُيُوتِهِم
Reference: Sahih Al Bukhari 1349