Sub-Chapter (Baab)

Sahih Al Bukhari 1296

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبر دی از ابن شہاب از عامر بن سعد بن ابی وقاص از والد خود رضی اللہ عنہ، وہ بیان کرتے ہیں:

حجۃ الوداع کے سال مجھے شدید درد تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کرنے کے لیے آئے، تب میں نے کہا: مجھے اتنا درد ہو رہا ہے اور میں مال دار ہوں اور میری وراثت صرف میری ایک بیٹی ہے، کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں! پھر میں نے پوچھا: میں آدھا مال صدقہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں! پھر آپ نے فرمایا: تہائی مال صدقہ کر دو، تہائی مال (بھی) بہت زیادہ ہے، بے شک اگر تم اپنے وارثوں کو خوش حال چھوڑو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم ان کو فقراء چھوڑو، وہ لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے رہیں اور بے شک تم جو بھی خرچ کرو گے جس سے تم اللہ کی رضا جوئی کا ارادہ کرو گے تو تم کو اس پر اجر ملے گا حتیٰ کہ تم جو کچھ اپنی بیوی کے منہ میں رکھو گے (اس پر بھی تم کو اجر ملے گا)، پس میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اپنے اصحاب کے پیچھے رہ جاؤں گا؟ آپ نے فرمایا: تم بے شک ہرگز پیچھے نہیں چھوڑے جاؤ گے، تم جو بھی نیک کام کرو گے اس سے تمہارا درجہ زیادہ اور بلند ہو گا، پھر شاید کہ تم پیچھے چھوڑے جاؤ گے حتیٰ کہ ایک قوم تم سے نفع حاصل کرے گی اور دوسری قوم تم سے نقصان اٹھائے گی، اے اللہ! میرے اصحاب کی ہجرت کو جاری رکھنا اور ان کو ان کی ایڑیوں پر نہ لوٹانا، لیکن بے چارے سعد بن خولہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے افسوس کر رہے تھے کہ وہ مکہ میں فوت ہو گئے تھے۔

وَقَالَ الحَكَمُ بْنُ مُوسَى: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحمَنِ بْنِ جَابِرٍ: أَنَّ القَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ حَدَّثَهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بُردَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

قَالَ: وَجِعَ أَبُو مُوسَى وَجَعًا شَدِيدًا، فَغُشِيَ عَلَيْهِ وَرَأْسُهُ فِي حَجْرِ امْرَأَةٍ مِنْ أَهلِه، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهَا شيئًا، فَلَمَّا أَفَاقَ، قَالَ: أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَرِئَ مِنَ الصَّالِقَةِ وَالحَالِقَةِ وَالشَّاقَّةِ

Grade:

Reference: Sahih Al Bukhari 1296