Sahih Al Bukhari 1287

پس حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا:

بے شک حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی اس قسم کی بات کہتے تھے، پھر انہوں نے حدیث بیان کی کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ سے لوٹا، حتیٰ کہ جب ہم مقامِ بیداء پر پہنچے تو اس وقت سواروں کی جماعت کیکر کے درخت کے سائے میں تھی، حضرت عمر نے فرمایا: جاؤ! دیکھو یہ کون سوار ہیں؟ حضرت ابن عباس نے کہا: میں نے دیکھا تو وہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ تھے، میں نے حضرت عمر کو بتایا تو حضرت عمر نے فرمایا: ان کو میرے پاس بلا کر لاؤ، میں واپس حضرت صہیب کے پاس گیا اور ان سے کہا: چلیے! پس وہ امیر المؤمنین سے ملے، پھر جب حضرت عمر زخمی ہو گئے تھے تو حضرت صہیب روتے ہوئے آئے اور کہنے لگے: ہائے میرے بھائی! ہائے میرے صاحب! پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے صہیب ! کیا تم مجھ پر رو رہے ہو؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: میت پر اس کے بعض گھر والوں کے رونے سے اس کو عذاب دیا جاتا ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ

- فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: قَدْ كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ بَعْضَ ذَلِكَ، ثُمَّ حَدَّثَ، قَالَ: صَدَرْتُ مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ مَكَّةَ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ إِذَا هُوَ بِرَكْبٍ تَحْتَ ظِلِّ سَمُرَةٍ، فَقَالَ: اذْهَبْ، فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلاَءِ الرَّكْبُ، قَالَ: فَنَظَرْتُ فَإِذَا صُهَيْبٌ، فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: ادْعُهُ لِي، فَرَجَعْتُ إِلَى صُهَيْبٍ فَقُلْتُ: ارْتَحِلْ فَالحَقْ أَمِيرَ المُؤْمِنِينَ، فَلَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ دَخَلَ صُهَيْبٌ يَبْكِي يَقُولُ: وَا أَخَاهُ وَا صَاحِبَاهُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا صُهَيْبُ، أَتَبْكِي عَلَيَّ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ المَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ

Grade:

Reference: Sahih Al Bukhari 1287