امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبدان اور محمد نے حدیث بیان کی، ان دونوں نے کہا: ہمیں عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں عاصم بن سلیمان نے خبر دی از ابی عثمان، انہوں نے کہا: مجھے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی نے آپ کی طرف پیغام بھیجا کہ میرا بیٹا فوت ہو رہا ہے، آپ ہمارے پاس آئیں، آپ نے جوابی پیغام میں سلام کہا اور فرمایا: بے شک اللہ ہی کے لیے ہے جو اس نے لے لیا اور اسی کے لیے ہے جو اس نے عطا کیا اور ہر چیز کی اس کے پاس مدت مقرر ہے، پس تم صبر کرو اور ثواب کی امید رکھو۔ انہوں نے پھر آپ کی طرف پیغام بھیجا اور آپ کو قسم دی کہ آپ ان کے پاس ضرور آئیں، سو آپ کھڑے ہوئے اور آپ کے ساتھ حضرت سعد بن عبادہ، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابی بن کعب، حضرت زید بن ثابت اور دوسرے مرد تھے، اس بچے کو اٹھا کر آپ کے پاس لایا گیا اور اس کا سانس اکھڑ رہا تھا، راوی نے کہا: میرے گمان میں اس کا جسم پرانی مشک کی طرح تھا، پس آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ حضرت سعد نے کہا: یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ اللہ کی رحمت ہے جس کو اللہ نے اپنے بندوں کے دل میں کر دیا ہے اور اللہ اپنے بندوں میں سے صرف رحم کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ وَمُحَمَّدٌ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنهُمَا
أَرْسَلَتْ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ إِنَّ ابْنا لي قُبِضَ فَأْتِنَا فَأَرْسَلَ يُقْرِئُ السَّلَامَ ويقُولُ إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعطَى وَكُلٌّ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى فَلْتَصبرْ ولتحْتَسِبْ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُقْسم علَيْهِ ليَأتِيَنَّهَا فَقَامَ وَمَعَهُ سَعْد بنُ عُبَادَةَ وَمَعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُبَيُّ بْن كَعْبٍ وَزيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَرِجَالٌ فَرُفِعَ إلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبيُ وَنفْسُهُ تَتَقَعْقَعُ قَالَ حسبْتُهُ أَنَّه قَالَ كَأَنَّهَا شَنٌّ فَفَاضَت عيْنَاهُ فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذَا فَقَالَ هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحمَاءَ
Reference: Sahih Al Bukhari 1284