(امام بخاری روایت کرتے ہیں:) ہمیں محمود نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شبابہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی از محمد بن زیاد از حضرت ابوہریرہ از نبی صلی اللہ علیہ وسلم،
آپ نے نماز پڑھا کر فرمایا: بے شک شیطان میرے پاس آیا، پس مجھ پر حملہ کیا تاکہ میری نماز توڑ دے، پس اللہ نے مجھ کو اس پر قدرت دی سو میں نے اس کو دھکا دیا اور میں نے ارادہ کیا کہ اس کو (مسجد کے) کسی ستون کے ساتھ باندھ دوں حتیٰ کہ تم صبح کو اٹھ کر اس کو دیکھتے، پھر مجھے حضرت سلیمان علیہ السلام کی یہ دعا یاد آئی: اے اللہ! مجھے ایسی سلطنت عطا فرما جو میرے بعد کسی اور کے لیے سزاوار نہ ہو، (ص: ۳۵) پس اللہ تعالیٰ نے اس کو ناکام لوٹا دیا۔
پھر النضر بن شمیل نے کہا ہے کہ یہ لفظ ”فَذَعَتُّهٗ“ ’ذال‘ کے ساتھ ہے یعنی میں اس کا گلا گھونٹ دوں اور ”فَدَعَتُّهٗ“ اللہ تعالیٰ کے اس قول سے ماخوذ ہے: ”یَوْمَ یُدَعُّوْنَ“ (الطور: ۱۳) یعنی جس دن ان کو دور کیا جائے گا اور صحیح لفظ ”فَدَعَّتُّهٗ“، یعنی عین اور تا پر تشدید ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ صَلَّى صَلاَةً قَالَ " إِنَّ الشَّيْطَانَ عَرَضَ لِي، فَشَدَّ عَلَىَّ لِيَقْطَعَ الصَّلاَةَ عَلَىَّ، فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ، فَذَعَتُّهُ، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أُوثِقَهُ إِلَى سَارِيَةٍ حَتَّى تُصْبِحُوا فَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ فَذَكَرْتُ قَوْلَ سُلَيْمَانَ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لاَ يَنْبَغِي لأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي. فَرَدَّهُ اللَّهُ خَاسِيًا ". ثُمَّ قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ فَذَعَتُّهُ بِالذَّالِ أَىْ خَنَقْتُهُ وَفَدَعَّتُّهُ مِنْ قَوْلِ اللَّهِ {يَوْمَ يُدَعُّونَ} أَىْ يُدْفَعُونَ وَالصَّوَابُ، فَدَعَتُّهُ إِلاَّ أَنَّهُ كَذَا قَالَ بِتَشْدِيدِ الْعَيْنِ وَالتَّاءِ.
Reference: Sahih Al Bukhari 1210