امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں بشر بن محمد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبداللہ نے خبر دی، یونس نے کہا: الزہری نے بیان کیا کہ مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
مسلمان پیر کے دن فجر کی نماز پڑھ رہے تھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کو نماز پڑھا رہے تھے، پس اچانک انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کا پردہ کھول دیا تھا، آپ نے مسلمانوں کی طرف دیکھا، وہ نماز کی صفوں میں تھے، آپ ہنستے ہوئے مسکرائے، حضرت ابوبکر اپنی ایڑیوں کی طرف لوٹے اور انہوں نے گمان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی طرف نکلنے کا ارادہ فرما رہے ہیں اور مسلمانوں نے ارادہ کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے سے جو خوشی ہوئی ہے اس میں وہ نماز کو توڑ دیں، آپ نے ان کو اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ نماز پوری کرو، پھر آپ حجرہ میں داخل ہو گئے اور پردہ ڈال دیا اور اسی دن آپ وصال فرما گئے۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ يُونُسُ قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ الْمُسْلِمِينَ، بَيْنَا هُمْ فِي الْفَجْرِ يَوْمَ الاِثْنَيْنِ، وَأَبُو بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ يُصَلِّي بِهِمْ فَفَجَأَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَدْ كَشَفَ سِتْرَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ، وَهُمْ صُفُوفٌ، فَتَبَسَّمَ يَضْحَكُ، فَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ عَلَى عَقِبَيْهِ، وَظَنَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُرِيدُ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى الصَّلاَةِ، وَهَمَّ الْمُسْلِمُونَ أَنْ يَفْتَتِنُوا فِي صَلاَتِهِمْ فَرَحًا بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ رَأَوْهُ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ أَنْ أَتِمُّوا، ثُمَّ دَخَلَ الْحُجْرَةَ وَأَرْخَى السِّتْرَ، وَتُوُفِّيَ ذَلِكَ الْيَوْمَ.
Reference: Sahih Al Bukhari 1205