امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابراہیم بن موسیٰ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عیسیٰ نے خبر دی اور وہ ابن یونس ہیں از اسماعیل از الحارث بن شبیل از ابی عمرو الشیبانی، انہوں نے کہا: مجھ سے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے کہا:
ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں نماز میں کلام کرتے تھے، ہم میں سے کوئی شخص اپنے ساتھی سے اپنی ضرورت کی بات کرتا تھا، حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہو گئی: تم (تمام) نمازوں کی حفاظت کرو اور (خصوصاً) درمیانی نماز کی اور اللہ کے لیے خاموشی سے کھڑے رہو (البقرہ:۲۳۸) پس ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى ـ هُوَ ابْنُ يُونُسَ ـ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ قَالَ لِي زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ إِنْ كُنَّا لَنَتَكَلَّمُ فِي الصَّلاَةِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، يُكَلِّمُ أَحَدُنَا صَاحِبَهُ بِحَاجَتِهِ حَتَّى نَزَلَتْ {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ} الآيَةَ، فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ.
Reference: Sahih Al Bukhari 1200