امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں قتیبہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عبدالرحمن بن ابی الموالی نے حدیث بیان کی از محمد بن المنکدر از حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما، انہوں نے بیان کیا کہ
ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام کاموں میں استخارہ کی اس طرح تعلیم دیتے تھے جس طرح ہمیں قرآن مجید کی کسی سورت کی تعلیم دیتے تھے آپ فرماتے تھے: جب تم میں سے کوئی شخص کسی کام کا ارادہ کرے تو وہ فرض کے علاوہ دو رکعت پڑھے پھر یوں دعا کرے: اے اللہ! میں تیرے علم سے خیر طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت سے طاقت طلب کرتا ہوں اور تیرے فضل عظیم سے سوال کرتا ہوں، کیونکہ تو قادر ہے اور میں قادر نہیں ہوں اور تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا، اور تو ہی علام الغیوب ہے، اے اللہ! اگر تجھے یہ علم ہے کہ یہ کام میرے دین اور دنیا اور میرے کام کے آغاز اور انجام میں بہتر ہے تو تُو اس کام کو میرے لیے مقدر فرما دے اور اس کام کو میرے لیے آسان فرما دے، پھر اس کام میں میرے لیے برکت رکھ اور اگر تجھے یہ علم ہے کہ یہ کام میرے دین اور دنیا میں اور میرے کام کے آغاز اور انجام میں نقصان دینے والا ہے تو تُو اس کام کو مجھ سے دور کر دے اور مجھے اس کام سے دور کر دے اور میرے لیے خیر کو مقدر کر دے وہ جہاں کہیں بھی ہو، پھر مجھے راضی کر دے، پھر اپنے اس کام کا نام لے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ أَبُو النَّضْرِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي وَإِلَّا اضْطَجَعَ. قُلْتُ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ بَعْضَهُمْ يَرْوِيهِ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ. قَالَ سُفْيَانُ هُوَ ذَاكَ.
Reference: Sahih Al Bukhari 1162