امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں یحییٰ بن سلیمان نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے ابن وہب نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے یونس نے خبر دی از ابن شہاب از عبید اللہ بن عبداللہ از حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما انہوں نے کہا:
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا درد بہت زیادہ ہو گیا تو آپ نے فرمایا: میرے پاس کتاب (کاغذ) لاؤ، میں تمہارے لیے ایسا مکتوب لکھ دوں، جس کے بعد تم گمراہ نہیں ہو گے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درد کا غلبہ ہے اور ہمارے پاس کتاب اللہ ہے، جو ہمیں کافی ہے، پھر صحابہ میں اختلاف ہوا اور کافی شور ہو گیا، آپ نے فرمایا: میرے پاس سے اٹھ جاؤ، میرے پاس اختلاف نہیں کرنا چاہیے، پھر حضرت ابن عباس یہ کہتے ہوئے باہر آئے: بے شک سب سے بڑی مصیبت وہ تھی، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے لکھنے کے درمیان حائل ہو گئی تھی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ
لَمَّا اشْتَدَّ بِالنَّبِيِّ ﷺ وَجَعُهُ قَالَ: ائْتُونِي بِكِتَابٍ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ. قَالَ عُمَرُ: إِنَّ النَّبِيَّ ﷺ غَلَبَهُ الْوَجَعُ، وَعِنْدَنَا كِتَابُ اللهِ حَسْبُنَا. فَاخْتَلَفُوا وَكَثُرَ اللَّغَطُ. قَالَ: قُومُوا عَنِّي، وَلَا يَنْبَغِي عِنْدِي التَّنَازُعُ. فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللهِ ﷺ وَبَيْنَ كِتَابِهِ.
Reference: Sahih Al Bukhari 114