Sahih Al Bukhari 1127

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابوالیمان نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعیب نے خبر دی از الزہری، انہوں نے کہا: مجھے علی بن حسین نے خبر دی کہ ان کو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے خبر دی، ان کو حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس اور حضرت فاطمہ بنت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک رات آئے، آپ نے فرمایا: کیا تم دونوں نماز نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ! ہماری جانیں اللہ کے قبضہ میں ہیں، پس جب وہ ہمیں اٹھانا چاہتا ہے تو ہم اٹھ جاتے ہیں، سو جب ہم نے یہ کہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے گئے اور مجھے کوئی جواب نہیں دیا، آپ پیٹھ موڑ کر اپنی ران پر ہاتھ مارتے ہوئے جا رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے: انسان سب سے زیادہ بحث کرنے والا ہے۔ (الکہف: ۵۴)

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ أَنَّ حُسَيْنَ بن عليٍّ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طالبٍ أخْبَرَهُ

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ بِنْت النَّبِي عَليْهِ السَّلَام لَيْلَةً فَقَالَ أَلا تُصَلِّيَانِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْفُسنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا فَانْصَرَفَ حِينَ قُلْنَا ذَلِكَ وَلَمْ يَرْجِعْ إِليَّ شَيْئًا ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهو مُوَلٍّ يضرِبُ فخِذَهُ وَهُوَ يَقُولُ وَكَان الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا

Grade:

Reference: Sahih Al Bukhari 1127