امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں علی بن عبد اللہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سلیمان بن ابی مسلم نے حدیث بیان کی از طاؤس، انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ بیان کرتے ہیں کہ
جب رات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کے لیے اٹھتے تو یہ دعا کرتے: اے اللہ! تیرے لیے ہی حمد ہے، تو ہی آسمانوں کا اور زمینوں کا اور ان میں موجود چیزوں کا قائم کرنے والا ہے اور تیرے لیے ہی حمد ہے، آسمانوں اور زمینوں کا اور ان میں موجود چیزوں کا تو ہی مالک ہے، اور تیرے لیے ہی حمد ہے تو آسمانوں اور زمینوں کو منور کرنے والا ہے، اور تیرے لیے ہی حمد ہے اور تو حق ہے اور تیرا وعدہ حق ہے اور تجھ سے ملاقات حق ہے اور تیرا قول حق ہے اور جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے اور انبیاء حق ہیں اور (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) حق ہیں، اور قیامت حق ہے، اے اللہ! میں تیرے لیے اسلام لایا اور تجھ پر ایمان لایا اور تجھ پر توکل کیا اور تیری ہی طرف رجوع کیا اور تیری ہی وجہ سے لڑا اور تیری ہی طرف مقدمہ کیا سو تو میرے ان (بہ ظاہر خلاف اولیٰ) کاموں کو معاف فرما جو میں نے پہلے کیے، جو بعد میں کیے، اور جن کو میں نے چھپا کر کیا اور جن کو میں نے دکھا کر کیا، تو ہی مقدم کرنے والا ہے اور تو ہی مؤخر کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے یا تیرے سوا کوئی برحق معبود نہیں۔
سفیان نے کہا: عبد الکریم ابو امیہ نے اضافہ کیا: ”ولا حول ولا قوة الا باللہ“ سفیان نے کہا: سلیمان بن ابی مسلم نے کہا: اس کو انہوں نے طاؤس سے سنا ہے از حضرت ابن عباس از نبی صلی اللہ علیہ وسلم۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتَهَجَّدُ قَالَ " اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ، لَكَ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَقَوْلُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ، وَمُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ ـ أَوْ لاَ إِلَهَ غَيْرُكَ ـ ". قَالَ سُفْيَانُ وَزَادَ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ " وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ ". قَالَ سُفْيَانُ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ سَمِعَهُ مِنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Reference: Sahih Al Bukhari 1120