امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن محمد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی از الزہری از عروہ از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے نماز دو رکعت فرض کی گئی، پس سفر کی نماز برقرار رہی، اور حضر کی نماز پوری پڑھی گئی۔ الزہری نے کہا: میں نے عروہ سے پوچھا: حضرت عائشہ جو (منیٰ میں) نماز پوری پڑھتی تھیں، اس کا کیا سبب تھا؟ انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہی تاویل کی تھی جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تاویل کی تھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّهُ عَنْهَا، قَالَتْ
الصَّلاَةُ أَوَّلُ مَا فُرِضَتْ رَكْعَتَيْنِ، فَأُقِرَّتْ صَلاَةُ السَّفَر، وَأُتِمَّتْ صَلاَةُ الحَضَرِ
Reference: Sahih Al Bukhari 1090