Sahih Al Bukhari 1058

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبد اللہ بن محمد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ہشام نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں معمر نے خبر دی از الزہری و ہشام بن عروہ از عروہ از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، انہوں نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں سورج کو گہن لگ گیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر لوگوں کو نماز پڑھائی، پس آپ نے طویل قراءت کی، پھر آپ نے رکوع کیا، پس طویل رکوع کیا، پھر آپ نے رکوع سے سر اٹھایا، پس طویل قراءت کی اور یہ پہلی قراءت سے کم تھی، پھر رکوع کیا، پس طویل رکوع کیا یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر رکوع سے سر اٹھایا، پس دو سجدے کیے، پھر کھڑے ہوئے، پس پہلی رکعت کی مثل دوسری رکعت پڑھائی، پھر کھڑے ہوئے، پس فرمایا: بے شک سورج اور چاند کو کسی کی موت کی وجہ سے گہن لگتا ہے نہ کسی کی حیات کی وجہ سے، لیکن یہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، اللہ انہیں اپنے بندوں کو دکھاتا ہے، پس جب تم ان کو دیکھو تو نماز کی پناہ میں آؤ۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ وَهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ وَهِيَ دُونَ قِرَاءَتِهِ الْأُولَى ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ دُونَ رُكُوعِهِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُرِيهِمَا عِبَادَهُ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ

Grade:

Reference: Sahih Al Bukhari 1058