(امام بخاری روایت کرتے ہیں:) ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے لیث نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے سعید نے حدیث بیان کی از ابی شریح،
انہوں نے عمرو بن سعید سے اس وقت کہا جب وہ مکہ کی طرف لشکر بھیج رہا تھا: اے امیر! میں آپ سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں، جس کو کل نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن کھڑے ہو کر فرمایا تھا، اس حدیث کو میرے دونوں کانوں نے سنا اور میرے دل نے اس کو یاد رکھا اور جس وقت آپ نے وہ حدیث فرمائی میری دونوں آنکھوں نے آپ کو دیکھا، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: بے شک مکہ کو اللہ نے حرم قرار دیا ہے، اس کو لوگوں نے حرام قرار نہیں دیا، سو جو شخص بھی اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان لایا ہو، اس کے لیے مکہ میں خون بہانا جائز نہیں ہے اور نہ مکہ کے درخت کو کاٹنا جائز ہے۔ پس اگر کوئی شخص مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتال کرنے سے قتال کی رخصت پر استدلال کرے تو اس سے کہو: بے شک اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں اجازت نہیں دی ہے اور مجھے اس میں صرف ایک ساعت میں اجازت دی تھی، آج اس کی حرمت پھر لوٹ آئی ہے، جیسا کہ کل اس کی حرمت تھی اور شاہد (حاضر) کو چاہیے کہ غائب کو (یہ حدیث) پہنچادے۔
پھر ابوشریح سے پوچھا گیا کہ (اس کے جواب میں) عمرو بن سعید نے کیا کہا؟ اس نے کہا: اے ابوشریح! میں اس مسئلہ کو تم سے زیادہ جانتا ہوں، بے شک مکہ کسی نافرمان کو پناہ نہیں دیتا اور نہ قتل کر کے بھاگنے والے کو اور نہ کسی چوری کر کے بھاگنے والے کو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ
أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ: ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ النَّبِيُّ ﷺ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ، سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي، وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ: حَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا، وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُولِ اللهِ ﷺ فِيهَا فَقُولُوا: إِنَّ اللهَ قَدْ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، ثُمَّ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ، وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ. فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ: مَا قَالَ عَمْرٌو؟ قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ، لَا يُعِيذُ عَاصِيًا وَلَا فَارًّا بِدَمٍ وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ.
Reference: Sahih Al Bukhari 104