امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن مسلمہ نے حدیث بیان کی از امام مالک، از ہشام بن عروہ، از والد خود، از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، وہ بیان کرتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں سورج کو گہن لگ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی‘ پس آپ نے بہت لمبا قیام کیا‘ پھر رکوع کیا تو بہت لمبا رکوع کیا‘ پھر آپ نے قیام کیا‘ پس لمبا قیام کیا اور یہ قیام پہلے قیام سے کم تھا‘ پھر آپ نے رکوع کیا‘ پس لمبا رکوع کیا اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا‘ پھر آپ نے سجدہ کیا‘ پس لمبا سجدہ کیا‘ پھر آپ نے دوسری رکعت پہلی رکعت کی مثل پڑھی‘ پھر آپ مڑے‘ اور سورج منکشف ہو چکا تھا‘ پھر آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا‘ پس اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی‘ پھر فرمایا: سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ان کو نہ کسی کی موت کی وجہ سے گہن لگتا ہے نہ کسی کی حیات کی وجہ سے‘ پس جب تم سورج گہن دیکھو تو اللہ سے دعا کرو اور تکبیر پڑھو اور نماز پڑھو اور صدقہ کرو‘ پھر فرمایا: اے امت محمد! اللہ کی قسم! تم میں سے کوئی شخص اللہ سے زیادہ غیرت والا نہیں ہے‘ جب اس کا بندہ زنا کرے یا اس کی بندی زنا کرے اور اے امت محمد! اللہ کی قسم! اگر تم ان چیزوں کو جان لیتے جن کو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنستے اور زیادہ روتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ خَسَفَتْ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ مَا فَعَلَ فِي الْأُولَى ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ انْجَلَتْ الشَّمْسُ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَادْعُوا اللَّهَ وَكَبِّرُوا وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا ثُمَّ قَالَ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللَّهِ مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنْ اللَّهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلبَكَيْتُمْ كَثِيرًا
Reference: Sahih Al Bukhari 1044