امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد بن ابی بکر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں معتمر نے حدیث بیان کی از عبیداللہ از ثابت از حضرت انس رضی اللہ عنہ، وہ بیان کرتے ہیں کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے، تو لوگ کھڑے ہو کر بہ آوازِ بلند کہنے لگے: یا رسول اللہ! بارش کا قحط پڑ گیا اور درخت سرخ ہو گئے اور جانور ہلاک ہو گئے، پس آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ ہم پر بارش نازل فرمائے، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: اے اللہ! ہم پر بارش نازل فرما، یہ آپ نے دو بار کہا، اور اللہ کی قسم! ہم آسمان پر کوئی بادل کا ٹکڑا نہیں دیکھ رہے تھے، پس بادل امڈ آئے اور برسنے لگے، اور آپ منبر سے اترے پھر آپ نے نماز پڑھائی، پھر جب آپ نماز پڑھا کر مڑے تو اگلے جمعہ تک مسلسل بارش ہوتی رہی، پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دینے لگے تو لوگوں نے بلند آواز سے کہا: مکانات گر گئے اور راستے منقطع ہو گئے، سو آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ اس بارش کو ہم سے روک لے، پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے، پھر دعا کی: اے اللہ! ہمارے اردگرد برسا، ہم پر نہ برسا، پھر مدینہ بارش کے پانی سے خالی ہو گیا، پھر مدینہ کے اردگرد بارش ہوتی تھی اور مدینہ پر بارش کا ایک قطرہ بھی نہیں گرتا تھا، پھر میں نے مدینہ کی طرف نظر کی تو وہ تاج کی طرح تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ جُمُعَةٍ فَقَامَ النَّاسُ فَصَاحُوا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَحَطَ الْمَطَرُ وَاحْمَرَّتْ الشَّجَرُ وَهَلَكَتْ الْبَهَائِمُ فَادْعُ اللَّهَ يَسْقِينَا فَقَالَ اللَّهُمَّ اسْقِنَا مَرَّتَيْنِ وَايْمُ اللَّهِ مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً مِنْ سَحَابٍ فَنَشَأَتْ سَحَابَةٌ وَأَمْطَرَتْ وَنَزَلَ عَنْ الْمِنْبَرِ فَصَلَّى فَلَمَّا انْصَرَفَ لَمْ تَزَلْ تُمْطِرُ إِلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيهَا فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ صَاحُوا إِلَيْهِ تَهَدَّمَتْ الْبُيُوتُ وَانْقَطَعَتْ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهَ يَحْبِسْهَا عَنَّا فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا فَكَشَطَتْ الْمَدِينَةُ فَجَعَلَتْ تَمْطُرُ حَوْلَهَا وَلَا تَمْطُرُ بِالْمَدِينَةِ قَطْرَةٌ فَنَظَرْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ وَإِنَّهَا لَفِي مِثْلِ الْإِكْلِيلِ
Reference: Sahih Al Bukhari 1021