امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابو ضمرہ انس بن عیاض نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں شریک بن عبد اللہ بن ابی نمر نے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا‘ وہ ذکر کر رہے تھے کہ
جمعہ کے دن ایک شخص منبر کے سامنے والے دروازہ سے داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کھڑے ہوئے خطبہ دے رہے تھے‘ وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منہ کر کے کھڑا ہوا‘ پس اس نے کہا: یا رسول اللہ! مویشی ہلاک ہو گئے اور راستے منقطع ہو گئے‘ لہذا آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ ہم پر بارش نازل کرے‘ حضرت انس نے کہا: پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کئے‘ پھر دعا کی: اے اللہ! ہم پر بارش نازل کر‘ اے اللہ! ہم پر بارش نازل کر‘ اے اللہ! ہم پر بارش نازل کر۔ حضرت انس نے کہا: اور اللہ کی قسم! ہم آسمان میں اکٹھے بادل دیکھ رہے تھے نہ متفرق بادل اور نہ کوئی اور چیز‘ اور نہ ہمارے اور سلع پہاڑ کے درمیان (کوئی بادل چھپا ہوا تھا) اور نہ کسی حویلی اور گھر کے درمیان‘ پس اچانک سلع پہاڑ کے پیچھے سے ڈھال کی طرح بادل امڈ آئے اور جب وہ آسمان کے وسط میں پہنچے تو منتشر ہو گئے‘ پھر برسنے لگے‘ حضرت انس نے کہا: اور اللہ کی قسم! ہم نے چھ دن تک سورج کو نہیں دیکھا‘ پھر اگلے جمعہ کو ایک شخص اسی دروازے سے داخل ہوا اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے خطبہ دے رہے تھے‘ پس وہ آپ کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! اموال ہلاک ہو گئے اور راستے منقطع ہو گئے‘ پس آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ اب بارش کو روک لے‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو بلند کیا‘ پھر آپ نے دعا کی: اے اللہ! ہمارے ارد گرد بارش نازل کر ہم پر نہ نازل کر‘ اے اللہ! ٹیلوں پر‘ پہاڑوں پر‘ میدانوں پر‘ پہاڑیوں پر‘ وادیوں پر اور درختوں کے اگنے کے مقامات پر بارش نازل فرما۔ حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ پھر بارش فوراً بند ہو گئی اور ہم دھوپ میں چلنے پھرنے لگے۔
شریک نے کہا: میں نے حضرت انس سے پوچھا: کیا یہ وہی پہلا شخص تھا؟ انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَذْكُرُ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ بَابٍ كَانَ وِجَاهَ الْمِنْبَرِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ فَاسْتَقْبَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَتْ الْمَوَاشِي وَانْقَطَعَتْ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهَ يُغِيثُنَا قَالَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ اسْقِنَا اللَّهُمَّ اسْقِنَا اللَّهُمَّ اسْقِنَا قَالَ أَنَسُ وَلَا وَاللَّهِ مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ مِنْ سَحَابٍ وَلَا قَزَعَةً وَلَا شَيْئًا وَمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ سَلْعٍ مِنْ بَيْتٍ وَلَا دَارٍ قَالَ فَطَلَعَتْ مِنْ وَرَائِهِ سَحَابَةٌ مِثْلُ التُّرْسِ فَلَمَّا تَوَسَّطَتْ السَّمَاءَ انْتَشَرَتْ ثُمَّ أَمْطَرَتْ قَالَ وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا الشَّمْسَ سِتًّا ثُمَّ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ ذَلِكَ الْبَابِ فِي الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ فَاسْتَقْبَلَهُ قَائِمًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَتْ الْأَمْوَالُ وَانْقَطَعَتْ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهَ يُمْسِكْهَا قَالَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا اللَّهُمَّ عَلَى الْآكَامِ وَالْجِبَالِ وَالْآجَامِ وَالظِّرَابِ وَالْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ قَالَ فَانْقَطَعَتْ وَخَرَجْنَا نَمْشِي فِي الشَّمْسِ قَالَ شَرِيكٌ فَسَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَهُوَ الرَّجُلُ الْأَوَّلُ قَالَ لَا أَدْرِي
Reference: Sahih Al Bukhari 1013