اور عمر بن حمزہ نے کہا: ہمیں سالم نے حدیث بیان کی از والد خود‘ انہوں نے کہا:
بسا اوقات مجھے شاعر کا یہ قول یاد آتا جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی طرف دیکھتا آپ بارش طلب کرتے اور ابھی آپ منبر سے نہیں اترتے تھے حتیٰ کہ ہر پرنالہ زور وشور سے بہہ رہا ہوتا تھا‘ اور وہ شعر یہ تھا: وہ گورے شخص جن کے وسیلہ سے بادل سے بارش طلب کی جاتی ہے‘ جو یتیموں کا سہارا ہیں اور بیواؤں کے سرپرست ہیں۔ (اور یہ قول حضرت ابو طالب کا ہے۔)
وَقَالَ عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ
رُبَّمَا ذَكَرْتُ قَوْلَ الشَّاعِرِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتسقي، فَمَا يَنْزِلُ حَتَّى وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الغَمَامُ بِوَجْهِهِ ... ثِمَالُ اليَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ
Reference: Sahih Al Bukhari 1009