امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں مسدد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبدالواحد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عاصم نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا:
میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قنوت کے متعلق سوال کیا، انہوں نے کہا: قنوت (مشروع) ہے، میں نے پوچھا: رکوع سے پہلے یا رکوع کے بعد؟ انہوں نے کہا: رکوع سے پہلے۔ عاصم نے کہا: فلاں شخص نے مجھے آپ سے یہ خبر نقل کی ہے کہ آپ نے رکوع کے بعد کہا ہے، حضرت انس نے کہا: اس نے جھوٹ بولا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد صرف ایک مہینہ قنوت پڑھی ہے، میرا گمان ہے کہ آپ نے ایک قوم کو مشرکین کی طرف بھیجا تھا جن کو قراء کہا جاتا تھا، وہ تقریباً ستر شخص تھے، یہ مشرک ان مشرکین کے علاوہ تھے جن کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صلح کا معاہدہ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے خلاف ایک ماہ تک دعائے ضرر کرتے رہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ الْقُنُوتِ فَقَالَ قَدْ كَانَ الْقُنُوتُ قُلْتُ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ قَالَ قَبْلَهُ قَالَ فَإِنَّ فُلَانًا أَخْبَرَنِي عَنْكَ أَنَّكَ قُلْتَ بَعْد الرُّكُوعِ فَقَالَ كَذَبَ إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْد الركُوعِ شَهْرًا أُرَاهُ كَانَ بَعَثَ قَوْمًا يُقَالُ لَهُمْ الْقُرَّاءُ زُهَاءَ سَبْعِينَ رَجُلًا إِلَى قَوْمٍ مِنْ الْمُشْرِكِينَ دُونَ أُولَئِكَ وَكَانَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ فَقَنَتَ رَسول اللَهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرا يَدعُو عَلَيْهِمْ
Reference: Sahih Al Bukhari 1002